وطن کی مٹی

وطن کی مٹی

جب انسان اپنے دیس سے اپنے پیاروں سے دور سمندر پار کہیں کسی انجان لوگوں میں جا کے بسیرا کر لیتا ہے تو وہ جسمانی طور پر اپنوں سے دور اپنے ملک سے میلوں دور ہوتا ہے لیکن ذہنی طور پہ اس کی روح اور خیالات اور وہ خواب میں بھی اپنے دیس کے اور زیادہ قریب ہوجاتا ہے

یہی وجہ ہے کہ آپ نے بھی اپنے بہت سے عزیز اور رشتہ داروں کو پردیس سے واپس آ کے یہ کہتے ہوئے سنا ہو گا کہ اپنے ملک میں رہ کر آدھی بھی مل جاۓ تو وہ اس پوری سے بہتر ہے جو اپنے ملک اور اپنے پیاروں سے دور رہ کر مل رہی ہو کیونکہ جب وہ پردیس سے لوٹتے ہیں تو بہت کچھ بدل چکا ہوتا ہے بہت سے عزیز اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہوتے ہیں

بہت سے چھوٹے چھوٹے بچے جو چلنا بھی نہیں جانتے تھے ان کی شرارتیں اور ان کی مستیاں وقت کے بھنور میں ایسے چلی جاتی ہیں جن کی واپسی نا ممکن ہو جاتی ہے گلیاں محلے پڑوس اور ارد گرد کے نقوش تبدیل ہو جاتے ہیں مجبوری کے ہاتھوں وہ وطن سے دوری پیاروں سے دوری برداشت کرتے ہیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *